15 جون 2009 - 19:30

حوثی مجاہدین کے قائد نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ شیعہ علاقوں پر بمباری کرنے والے طیاروں کے ہواباز عراقی آمر صدام کے باقیات اور سابقہ عراقی فضائیہ کے اہلکار ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق یمن کے شمال میں حوثیوں کے علاقوں پر سعودی حملے جاری ہیں اور سعودی عرب نے یمن کی سرحد سے ملحقہ اپنے 240 دیہات خالی کرالئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی فضائیہ یمن کی سرزمین کے 10 کلومیٹر اندر تک شیعہ شہری علاقوں سمیت پہاڑی علاقوں میں مجاہدین کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

يونيسف نے سعودی عرب کی مداخلت کے بعد شمالی یمن کی صورت حال افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں انسانی صورت حال ہولناک المیئے کی لپیٹ میں ہے۔

یونیسف نے اس علاقے میں امدادی سامان بھیجنے کے لئے سعودی عرب اور یمن سے تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کے سلسلے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ہر روز تازہ دم دستے شمالی یمن کی طرف روانہ کررہا ہے۔

دوسری طرف سے شیعہ مجاہدیں کے ایک ترجمان "یحیی الحوثی" نے کہا ہے کہ عراق کی تحلیل شدہ بعثی افواج کے سابق افسران شیعہ مجاہدین کے خلاف جنگ میں یمنی افواج کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور یمنی دیہاتوں میں بچوں اور خواتین کے قتل عام کے لئے بعثی ہوابازوں سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ یمنی ہواباز اپنے شہریوں کو مارنے کے لئے تیار نہیں ہورہے چنانچہ یمن کے صدام نما صدر نے صدام کے باقیات کو شیعیان یمن کے قتل عام کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

یحیی الحوثی نے کہا کہ عراق پر امریکی حملے کے بعد سینکڑوں بعثی افسران یمن کی طرف بھاگ آئے تھے اور وہ اسی وقت سے شیعیان یمن کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔

الحوثی نے کہا کہ یمن کی خانہ جنگی میں سعودی مداخلت ابتداء ہی سے عیاں تھی اور سعودی عرب درحقیقت یمن کی مذہبی ڈھانچے میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمنی حکمرانوں کی مدد سے یمن میں وہابیت کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شیعہ مجاہدین کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دین اور سرزمین کے دفاع کے سلسلے میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

یحیی الحوثی نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ اس کی سرحد کے قریب ہونے والی جھڑپیں روکنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنائے تا کہ ہم سعودی حکمرانوں کے لئے واضح کریں کہ ہمارا ان کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

الحوثی نے ایران کی طرف سے شیعہ مجاہدین کی حمایت سے متعلق رپورٹوں کی سختی سے تردید کی۔

ادھر یمن کی اپوزیشن جماعتوں کی مجلس اعلی نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثیوں پر سعودی حملے روکنے کے لئے مداخلت کریں۔